16 ستمبر 2012 - 19:30

حزب اللہ کے قائد سید حسن نصر اللہ نے کل رات ایک نشری تقریر میں حالیہ واقعات کو خطرناک اور اسلام کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کے سامنے خاموشی اختیار کرنا، ایسا خطرہ ہے جو آج عالم اسلام کو چیلنج کررہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور اسلامی مزاحمت تحریک کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے المنار اور العالم پر براہ راست ہونے والی تقریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دفاع کو تمام انبیاء اور آسمانی ادیان کا دفاع قرار دیتے ہوئے کہا: ایک بار پھر دشمنوں کی طرف سے مقدسات کی توہین کا مقصد دنیا کے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان فتنہ انگیزی ہے اور اس بار عیسائیوں کو دشمنوں کے اہداف حاصل کرنے کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔سیدحسن نصر اللہ نے کہا: توہین آمیز فلم پر مسلمانوں کا غم و غصہ عیسائیوں کی جانب نہيں بلکہ امریکہ کی جانب ہے اور کسی کو بھی اس فتنے کے جال میں نہيں پھنسنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: امریکہ کو اس توہین آمیز فلم کے بدلے سزا ملنی چاہئے۔ آزادی بیان کے دوہرے معیارسید حسن نصر اللہ نے کہا: امریکی حکومت بیان کی آزادی کے بہانے اعلان کرتی ہے کہ اس فلم کی تیاری اور نشر واشاعت میں ملوث عناصر کے خلاف کوئی کاروائی نہيں کرے گی حالانکہ جو لوگ صہیونیت مخالف رائے کے حامل ہوتے ہیں ان کو امریکی حکومت سزائیں دیتی ہے اور یہ آزادی بیان کے سلسلے میں امریکہ کے دوہرے معیار کا ثبوت ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا: کیا مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ان کو ہالوکاسٹ کے منکرین کے لئے بنائے جانے والے قانون کی مانند ایک قانون کی حمایت حاصل ہو؟حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دے کر کہا: اس طرح کے توہین آمیز اقدامات کا سد باب کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور شیطانی آیات نامی کتاب کے مؤلف "سلمان رشدی" کے خلاف امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کا فتوی اس طرح کے اقدامات کا سلسلہ روکنے کے لئے تسدید (Deterrence) اور سد باب کی اساس ہونا چاہئے۔سیدحسن نصر اللہ نے مزید کہا: آسمانی ادیان اور انبیاء کی توہین کی ممانعت کے لئے ایک بین الاقوامی قانون کے اجراء اور اس کے نافذالعمل ہونے کی ضرورت ہے۔  انھوں نے کہا: امریکی کانگریس ـ جس نے قبل ازیں ہالوکاسٹ کے انکاریوں کے لئے قانون سازی کی ہے ـ نے ابھی تک اسلام کی توہین کرنے والے عناصر کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا۔ اسلام کی توہین عالمی امن کے لئے چیلنجحسن نصراللہ کا کہنا تھا: اسلام کی توہین عالمی امن کو خطرے میں ڈالتی ہے اور ناقابل ضبط اور قابو میں نہ آنے والے بحران کا سبب ہے، اور اگر اس فلم میں ـ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات قدسی کی توہین کی گئی ہے ـ کسی عرب بادشاہ یا صدر کی توہین کی جاتی تو اس سے کہیں بڑا تنازعہ کھڑا ہوتا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا: ہم مسلمان عظیم وسائل اور امکانات کے مالک ہیں تو کیا اس صورت میں بھی ہم اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دفاع سے عاجز ہیں؟ عالم اسلام کے حکام کو چاہئے کہ وہ امریکہ کو اسلام کے مقدسات اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم احترام پر آمادہ کریں۔سیدحسن نصر اللہ نے کہا: لبنانی معاشرے میں قومی کیاست و ہوشیاری کی سطح بلند ہونے کے باعث پرامن بقائے باہمی برقرار ہے اور یہ مسئلہ پاک بنڈیکٹ شانزدہم کے دورہ لبنان میں آشکار ہوا اور لبنان اپنی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کے ناطے دنیا میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور اسلام کی توہین کا سد باب کرنے کے لئے اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس بلا سکتا ہے اور عوام کی سطح پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گستاخی پر مبنی فلم کی تشہیر اور ترویج کا سد باب کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اسلامی مزاحمت تحریک کے قائد نے مزید کہا: آسمانی ادیان کی توہین کرنے والے عناصر کو سزا دینے کے لئے قانون سازی کی کوشش ہونی چاہئے۔ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا: پیر کا دن (آج 17 ستمبر 2011) جنوبی لبنان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین پر مبنی فلم پر احتجاج کے لئے متعین کیا گیا ہےاور تمام حکومتوں کو سمجھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے مقدسات کا احترام ان کے مفادات کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ ........../110